30 دسمبر 2016 - 19:00
علامہ رمضان توقیر: شرافت حسین پر قاتلانہ حملہ ڈی آئی خان کی تباہی کی گھناؤنی سازش ہے

ڈی آئی خان میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے شیعہ علماء کونسل کے مرکزی نائب کا کہنا تھا کہ انتظامیہ اہل تشیع وکلاء، اساتذہ اور دیگر افراد کے قاتلوں کی گرفتاری میں غفلت کی مرتکب نہ ہوتی تو دہشتگرد آج یوں نہ دندنا رہے ہوتے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی نائب علامہ رمضان توقیر نے کہا ہے کہ شرافت حسین پر قاتلانہ حملہ ڈیرہ اسماعیل خان کو ایک بار پھر تباہی و بربادی کی طرف دھکیلنے کی گھناؤنی سازش ہے۔ نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد نہ ہونے کے سبب دہشت گردوں کو دہشت گردی کا بار بار موقع مل رہا ہے۔
جا‫معتہ النجف کوٹلی امام حسین (ع) میں صحافیوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں کچھ عرصہ وقفہ کے بعد اہل تشیع کو نشانہ بنانے کا سلسلہ تواتر سے چل رہا ہے۔
انتظامیہ اہل تشیع کے وکلاء، اساتذہ و دیگر افراد کے قاتلوں کو گرفتار کرنے میں غفلت کا مظاہرہ نہ کرتی تو آج ایک بار پھر انھیں آگ لگانے کا موقع نہ ملتا‫۔
انھوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پرمن و عن عمل درآمد کیوں نہیں کیا جا رہا۔ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد نہ ہونے کے سبب ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گرد دندناتے پھر رہے ہیں اور جب ان کا دل چاہتا ہے وہ کاروائی کر لیتے ہیں‫۔ علامہ رمضان توقیر نے انسپیکٹر جنرل پولیس اور ڈیرہ پولیس افسران دہشت گردوں کو گرفتار کرکے انھیں کٹہرے میں لائیں‫‫۔
واضح رہے کہ آج صبح دہشت گردوں نے تشیع نوجوان شرافت حسین پر فائرنگ کی۔ جس میں وہ شدید زخمی ہوگئے۔ حالت نازک ہونے کے باعث ڈاکٹروں نے انہیں ملتان ریفر کردیا ہے۔

.....

/169